ہولسٹین فریزین گائے کو کیا کھلایا جاتا ہے؟ چارہ، ونڈا اور منرلز کی عملی رہنمائی

Change Language Here ↓

ہولسٹین فریزین گائے زیادہ دودھ دینے کے لیے پہچانی جاتی ہے، اور اسی وجہ سے اس کی خوراک عام دیسی یا کراس بریڈ جانور کے مقابلے میں زیادہ توجہ مانگتی ہے۔

ایک اچھی ہولسٹین گائے، نسل، دودھ دینے کے دور اور انتظام کے لحاظ سے، روزانہ 25 سے 40 لیٹر یا اس سے زیادہ دودھ دے سکتی ہے۔

اس کے لیے اسے روزانہ بڑی مقدار میں خشک مادہ (dry matter) کھانا پڑتا ہے، دودھ کی پیداوار کے لیے کافی توانائی اور پروٹین ملنی چاہیے، اور اس کا معدہ (rumen) درست کام کرتا رہنا چاہیے۔ ہولسٹین کی خوراک بنیادی طور پر انہی تین چیزوں کو متوازن رکھنے کا نام ہے۔

بنیادی اصول: پہلے چارہ، پھر ونڈا

گائے جگالی کرنے والا جانور ہے۔ اس کا معدہ ریشے دار خوراک ہضم کرنے کے لیے بنا ہے، اور جب تک اسے کافی ریشہ نہ ملے یہ ٹھیک کام نہیں کرتا۔ اس لیے ہولسٹین کی خوراک دو حصوں پر مشتمل ہوتی ہے:

  • چارہ (ہرا چارہ، سائیلج، سوکھا چارہ، بھوسہ) راشن کی بنیاد ہوتا ہے۔ اس سے ریشہ ملتا ہے جو معدے کو صحت مند رکھتا ہے، جگالی اور لعاب بڑھاتا ہے اور دودھ میں چکنائی برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
  • ونڈا / کنسنٹریٹ فیڈ (دانے، کھل، ثانوی اجزا) اضافی توانائی اور پروٹین دیتا ہے جو زیادہ دودھ دینے والی گائے کو صرف چارے سے پوری نہیں ہو سکتی۔

جو گائے روزانہ 30 لیٹر دودھ دے رہی ہو، وہ صرف برسیم یا بھوسے سے اتنی توانائی حاصل نہیں کر سکتی، کیونکہ اتنا چارہ اس کے پیٹ میں سما ہی نہیں سکتا۔ اسی لیے زیادہ پیداوار کے لیے ونڈا ضروری ہے۔

لیکن ونڈا زیادہ اور ریشہ کم ہو جائے تو ایسڈوسس (acidosis)، دودھ میں چکنائی کی کمی، لنگڑاہٹ اور خوراک کی کم افادیت جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ کمرشل ڈیریوں میں زیادہ تر مسائل اسی توازن کے بگڑنے سے پیدا ہوتے ہیں۔

پنجاب میں استعمال ہونے والے عام چارے

ہرا چارہ

  • برسیم پنجاب کا اہم سردیوں کا چارہ ہے، جو تقریباً نومبر سے اپریل تک ملتا ہے۔ اس میں پروٹین زیادہ ہوتی ہے اور جانور شوق سے کھاتا ہے۔ چونکہ یہ بہت نرم اور پروٹین سے بھرپور ہوتا ہے، اس لیے عموماً اسے گندم کے بھوسے جیسے خشک ریشے کے ساتھ ملا کر دیا جاتا ہے۔ صرف تازہ اور گیلا برسیم زیادہ مقدار میں دینے سے پیٹ پھولنے (bloat) کا خطرہ ہوتا ہے، اس لیے احتیاط اور آہستہ آہستہ عادت ڈالنا ضروری ہے۔
  • لوسرن / الفالفا (alfalfa/lucerne) اعلیٰ معیار کی پھلی دار (legume) فصل ہے جس میں پروٹین، کیلشیم اور ہضم ہونے والا ریشہ زیادہ ہوتا ہے۔ یہ ڈیری مویشیوں کے لیے بہترین چاروں میں شمار ہوتی ہے۔ پنجاب کے کچھ علاقوں میں کاشت ہوتی ہے، مگر اچھی آبپاشی اور دیکھ بھال مانگتی ہے۔
  • مکئی کا ہرا چارہ گرمیوں میں عام اگایا جاتا ہے۔ اس میں توانائی زیادہ ہوتی ہے اور جانور اچھی طرح کھاتے ہیں، لیکن پروٹین پھلی دار فصلوں سے کم ہوتی ہے، اس لیے ساتھ پروٹین کا ذریعہ دینا پڑتا ہے۔
  • جوار اور سوڈان گھاس گرمیوں کے عام چارے ہیں۔ یہاں ایک اہم احتیاط ہے: بہت کچی، خشک سالی یا پالے سے متاثرہ جوار میں پرسک ایسڈ (ہائیڈروسیانک ایسڈ) ہو سکتا ہے جو زہریلا ہے۔ اس لیے مناسب مرحلے پر کٹائی اور مقامی زرعی ماہرین کی ہدایت پر عمل ضروری ہے۔
  • کچھ علاقوں میں سردیوں میں جئی اور شفتل بھی استعمال ہوتے ہیں۔

سائیلج (silage)

سائیلج وہ چارہ ہے جسے کاٹ کر، دبا کر، ہوا سے بند کر کے خمیر (fermentation) کیا جاتا ہے تاکہ مہینوں تک محفوظ رہے۔

  • مکئی کا سائیلج کمرشل ہولسٹین ریوڑ کے لیے سب سے اہم سائیلج ہے۔ اس میں توانائی زیادہ ہوتی ہے، جانور شوق سے کھاتے ہیں، اور ان مہینوں میں مستقل خوراک فراہم کرتا ہے جب ہرا چارہ کم ہوتا ہے۔ پنجاب میں چارے کی قلت کے موسم، خاص طور پر مون سون کے چارے تیار ہونے سے پہلے گرمیوں کا وقفہ اور خزاں کے آخر کا کم چارے والا دور، فارموں کے سائیلج بنانے کی بڑی وجوہات میں سے ہیں۔ اس کا معیار درست مرحلے پر کٹائی، کٹائی کی لمبائی، اچھی طرح دبانے اور مکمل سیل کرنے پر بہت انحصار کرتا ہے۔ ناقص سائیلج خراب ہو سکتا ہے اور جانوروں کی صحت کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
  • جوار وغیرہ کا سائیلج بھی بنتا ہے، مگر اس کی غذائیت مختلف ہو سکتی ہے۔

سوکھا چارہ اور بھوسہ

  • لوسرن کی خشک گھاس (hay) اور دیگر اچھی پھلی دار خشک گھاس پروٹین اور ہضم ہونے والا ریشہ فراہم کرتی ہے۔
  • گندم کا بھوسہ غذائیت اور ہضم ہونے کی صلاحیت میں کم ہوتا ہے۔ یہ غذائیت کے لیے نہیں بلکہ ریشے کے لیے دیا جاتا ہے۔ جس راشن میں برسیم یا سائیلج زیادہ ہو، وہاں بھوسے کی کنٹرول شدہ مقدار معدے کو مستحکم رکھتی ہے۔ زیادہ دودھ دینے والی گائے کی خوراک میں اس کا حصہ بڑا نہیں ہونا چاہیے۔

ونڈا / کنسنٹریٹ فیڈ (concentrate feed)

ونڈا وہ چیز فراہم کرتا ہے جو چارے سے پوری نہیں ہوتی: مرتکز توانائی اور پروٹین۔ پاکستان میں عام استعمال ہونے والے اجزا میں شامل ہیں:

  • توانائی کے ذرائع: مکئی کے دانے، گندم یا اس کی ثانوی اشیا (چوکر)، رائس پالش، اور محدود مقدار میں شیرہ (molasses)
  • پروٹین کے ذرائع: بنولہ کھل، کینولا میل، سویابین میل، سورج مکھی کی کھل، مکئی کا گلوٹن میل، گوار میل
  • چکنائی کے ذرائع: کچھ فارم ثابت بنولہ اور محفوظ (bypass) چکنائی استعمال کرتے ہیں تاکہ خاص طور پر ابتدائی دودھ کے دور اور گرمی کے مہینوں میں راشن کی توانائی بڑھائی جا سکے
  • معدنیات اور وٹامنز جو مکسچر میں شامل کیے جاتے ہیں

یہاں دو عملی نکات اہم ہیں:

  1. اجزا اور ان کی قیمتیں سال بھر بدلتی رہتی ہیں، اس لیے اچھے کمرشل راشن قیمت، معیار اور موجود چارے کے تجزیے کے مطابق ایڈجسٹ کیے جاتے ہیں۔
  2. تیار شدہ ونڈا ہر برانڈ کا ایک جیسا نہیں ہوتا۔ پروٹین کی مقدار، توانائی، پروٹین کے ذرائع اور کوالٹی کنٹرول مختلف ہوتے ہیں۔ صرف بوری کا لیبل اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ ہر مرحلے کی گائے کے لیے موزوں ہے۔

منرلز، نمک اور وٹامنز

زیادہ دودھ دینے والی گائے دودھ کے ذریعے کیلشیم، فاسفورس، میگنیشیم اور دیگر معدنیات بڑی مقدار میں خارج کرتی ہے، اور صرف چارہ اکثر کافی نہیں ہوتا۔ ڈیری مویشیوں کے لیے تیار کردہ کمرشل منرل مکسچر عام طور پر راشن کا حصہ ہوتا ہے۔

  • کیلشیم اور فاسفورس دودھ اور ہڈیوں کے لیے ضروری ہیں۔ ان کا تناسب اور مقدار دونوں اہم ہیں، اور بچہ دینے کے آس پاس ضرورت بدل جاتی ہے۔
  • نمک (سوڈیم کلورائیڈ) روزانہ درکار ہے۔ سوڈیم اور کلورائیڈ پانی کے استعمال اور گرمی سے نمٹنے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔
  • میگنیشیم، پوٹاشیم اور ٹریس منرلز (زنک، کاپر، سیلینیم، مینگنیز، کوبالٹ، آیوڈین) دودھ کی پیداوار، قوتِ مدافعت اور افزائشِ نسل میں مدد دیتے ہیں۔ ان کی ضرورت علاقے کی زمین اور خوراک کے لحاظ سے بدلتی ہے، اور کچھ کی زیادتی زہریلی ہو سکتی ہے۔
  • وٹامن اے، ڈی اور ای عموماً اضافی دیے جاتے ہیں، خاص طور پر جب جانور کو تازہ ہرا چارہ یا دھوپ کم ملے۔

چونکہ کئی منرلز کی زیادتی بھی کمی جتنی نقصان دہ ہے، اس لیے اندازے سے منرلز ڈالنے کے بجائے نیوٹریشنسٹ کے تیار کردہ ڈیری مخصوص پروڈکٹ کا استعمال زیادہ محفوظ ہے۔

پانی: سب سے زیادہ نظرانداز ہونے والی خوراک

دودھ میں تقریباً 87 فیصد پانی ہوتا ہے۔ دودھ دینے والی ہولسٹین کو، خاص طور پر گرمی اور زیادہ پیداوار میں، تقریباً 100 لیٹر یا اس سے زیادہ پینے کا پانی روزانہ درکار ہو سکتا ہے۔

اصل ضرورت دودھ کی مقدار، درجہ حرارت اور خوراک پر منحصر ہے۔ پانی صاف ہو، ہر وقت دستیاب ہو اور آسانی سے پہنچ میں ہو۔ پانی کی کمی خوراک کھانے اور دودھ کی پیداوار کو جلد گھٹا دیتی ہے۔

ٹوٹل مکسڈ راشن (TMR)

بہت سے کمرشل ہولسٹین فارم ٹوٹل مکسڈ راشن (TMR) استعمال کرتے ہیں: چارہ، سائیلج، ونڈا اور منرلز کاٹ کر آپس میں ملا دیے جاتے ہیں تاکہ ہر نوالے میں متوازن مقدار ہو۔

فارم TMR کیوں استعمال کرتے ہیں:

  • گائے صرف مزیدار ونڈا چن کر ریشہ چھوڑ نہیں سکتی
  • معدے کو غذائی اجزا زیادہ یکساں اور مستقل ملتے ہیں، جس سے ایسڈوسس کا خطرہ کم ہوتا ہے
  • پیداوار کے گروپ کے مطابق راشن الگ الگ رکھا جا سکتا ہے، سب گایوں کو ایک جیسا دینے کی ضرورت نہیں

TMR کے لیے مکسر ویگن، تولنے کا سامان اور مستقل انتظام درکار ہے۔ اچھے نتائج کے لیے یہ لازمی نہیں، اور چارہ اور ونڈا الگ الگ دینے والا اچھا انتظام بھی کام کر سکتا ہے، لیکن اس صورت میں ونڈا ایک بڑی خوراک کے بجائے کئی بار میں تقسیم کر کے دینا چاہیے۔

دودھ دینے کے دور (lactation) کے مطابق خوراک

ہولسٹین کی ضروریات ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتیں۔

  • خشک دور (بچہ دینے سے تقریباً 60 دن پہلے): گائے دودھ نہیں دے رہی ہوتی، اس لیے کم توانائی اور زیادہ ریشے والا راشن چاہیے۔ اس مرحلے میں زیادہ کھلانے سے گائے موٹی ہو جاتی ہے اور ولادت کے بعد میٹابولک مسائل ہو سکتے ہیں۔ ولادت سے پہلے آخری ہفتوں میں معدنیات کا توازن، خاص طور پر کیلشیم کا انتظام، اہم ہے۔
  • ٹرانزیشن پیریڈ (ولادت سے تقریباً تین ہفتے پہلے سے تین ہفتے بعد تک): یہ سب سے نازک مرحلہ ہے۔ ولادت کے آس پاس بھوک کم ہو جاتی ہے جبکہ دودھ تیزی سے بڑھتا ہے، جس سے توانائی کی کمی پیدا ہوتی ہے۔ اس دور میں ناقص انتظام کا تعلق ملک فیور (milk fever)، کیٹوسس (ketosis)، آنول نہ گرنے، ابومیزم کے ہٹ جانے اور باقی دودھ کے دور میں پیداوار کی کمی سے ہے۔ اس مرحلے کے لیے راشن خاص طور پر ایڈجسٹ کیا جاتا ہے۔
  • ابتدائی دودھ کا دور (پہلے تقریباً 100 دن): دودھ عروج پر ہوتا ہے۔ گائے کو زیادہ توانائی اور پروٹین والا راشن چاہیے، لیکن بھوک دودھ کے مقابلے میں سست بڑھتی ہے، اس لیے وہ اکثر جسمانی حالت کھو دیتی ہے۔ راشن غذائیت سے بھرپور ہو مگر ریشہ بھی کافی ہو۔
  • درمیانی اور آخری دور: دودھ کم ہوتا ہے، بھوک برقرار رہتی ہے، اور راشن کو اس طرح ایڈجسٹ کیا جاتا ہے کہ گائے ضرورت سے زیادہ موٹی نہ ہو۔

بچھڑوں اور بچھیوں کا اپنا الگ فیڈنگ پروگرام ہوتا ہے (کولسٹرم، دودھ یا ملک ری پلیسر، کاف اسٹارٹر، پھر گروور راشن)، جو الگ موضوع ہے۔

ایک ہولسٹین کتنا کھاتی ہے؟

اس کا کوئی ایک عدد نہیں۔ دودھ دینے والی بالغ ہولسٹین عموماً اپنے جسمانی وزن کا تقریباً 3 سے 4 فیصد روزانہ خشک مادے (dry matter) کی صورت میں کھاتی ہے، اور زیادہ پیداوار والی گائے کبھی کبھی اس سے زیادہ بھی۔

چونکہ ہرے چارے اور سائیلج میں پانی بہت ہوتا ہے، اس لیے "جیسا کھلایا” (as fed) وزن خشک مادے سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ اصل مقدار جسمانی وزن، دودھ کی پیداوار، دودھ کے دور، راشن کے معیار، موسم اور گائے کے آرام پر منحصر ہے۔

"فی گائے اتنے کلو” کا کوئی طے شدہ اصول اپنانے کے بجائے راشن دودھ کی مقدار، جسمانی حالت (body condition) اور چارے کے تجزیے کی بنیاد پر بنانا چاہیے۔

پاکستان کی گرمی میں خوراک

ہولسٹین اصل میں ٹھنڈے علاقوں کی نسل ہے اور گرمی برداشت کرنا اس کے لیے مشکل ہے۔ جب درجہ حرارت اور نمی زیادہ ہو تو گائے کم کھاتی ہے، خود کو ٹھنڈا رکھنے میں زیادہ توانائی لگاتی ہے اور دودھ کم دیتی ہے۔

گرمی میں خوراک کے حوالے سے اپنائے جانے والے اقدامات:

  • راشن کو زیادہ غذائیت سے بھرپور بنانا تاکہ کم کھانے پر بھی ضرورت پوری ہو
  • خوراک کا زیادہ حصہ دن کے ٹھنڈے اوقات میں دینا، جیسے صبح سویرے اور شام
  • صاف اور ٹھنڈا پانی کافی مقدار میں دینا، اور ناند میں کافی جگہ رکھنا
  • بچی ہوئی خوراک کو دھوپ میں پڑا نہ رہنے دینا، کیونکہ گرمی میں وہ جلد خراب ہوتی ہے
  • پوٹاشیم، سوڈیم اور دیگر الیکٹرولائٹس کی ضرورت پوری کرنا، کیونکہ گائے پسینے اور ہانپنے سے معدنیات کھوتی ہے
  • خوراک کے ساتھ سایہ، پنکھے اور فوارے بھی استعمال کرنا، کیونکہ صرف خوراک سے ہیٹ اسٹریس (heat stress) حل نہیں ہوتا

عام غلطیاں

  • ونڈا زیادہ اور ریشہ کم دینا، جس سے ایسڈوسس اور دودھ میں کم چکنائی ہوتی ہے
  • پیداوار اور دور سے قطع نظر سب گایوں کو ایک جیسا راشن دینا
  • راشن اچانک تبدیل کرنا؛ معدے کے جراثیم کو نئی خوراک کے مطابق ڈھلنے میں کئی دن لگتے ہیں
  • ناقص یا پھپھوندی لگا سائیلج اور خشک چارہ، جو صحت اور دودھ پر اثر ڈال سکتا ہے
  • منرلز کو نظرانداز کرنا یا راشن جانے بغیر منرلز دینا
  • پانی کی کمی یا گندا پانی
  • چارے کا ٹیسٹ یا پیمائش نہ کرنا۔ چارے کی غذائیت فصل کے مرحلے، موسم اور محفوظ کرنے کے طریقے کے ساتھ بدلتی ہے، اس لیے اندازے پر بنایا گیا راشن غلط ہو سکتا ہے

درست راشن کیسے بنتا ہے

چونکہ نسل، دودھ کی مقدار، خوراک کی قیمت اور چارے کا معیار ہر فارم پر مختلف ہوتا ہے، اس لیے کوئی ایک "سب کے لیے” راشن موجود نہیں۔

فارم عموماً کسی مستند ڈیری نیوٹریشنسٹ یا ویٹرنری ڈاکٹر کے ساتھ مل کر چارے کے تجزیے کی بنیاد پر راشن بناتے ہیں اور پیداوار بدلنے پر اسے ایڈجسٹ کرتے ہیں۔ گایوں کا باقاعدہ مشاہدہ بھی مدد دیتا ہے: جسمانی حالت (body condition score)، جگالی، گوبر کی ساخت، دودھ کی مقدار اور دودھ میں چکنائی، یہ سب بتاتے ہیں کہ راشن ٹھیک کام کر رہا ہے یا نہیں۔

مختصراً، ہولسٹین فریزین گایوں کو ریشے دار چارے، توانائی اور پروٹین والے ونڈا، منرلز، وٹامنز اور وافر صاف پانی کا ایک متوازن مجموعہ کھلایا جاتا ہے۔ اس کی اصل ترکیب موسم، گائے کے دودھ کے دور اور دستیاب خوراک کے معیار کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔